سکالونی نے ارجنٹائن کی تکلیف کی ڈی این ای کو ہمیشہ یاد رکھا
Bdbusinessdaily.com – ارجنٹائن کے ٹیم کوچ لئیونل سکالونی نے کوارٹر فائنل میچ میں سوئیس ٹیم کے خلاف اضافی وقت کے بعد 3-1 کی جیت حاصل کرنے کے بعد اپنی ٹیم کی ڈی این ای (DNA) میں تکلیف کا احساس بیان کیا۔ اس فتح کے باوجود، سکالونی نے کہا کہ ارجنٹائن کی کامیابی کے لیے اس کی تاریخی ڈی این ای کا بھاری اثر پڑا ہے۔
سکالونی کے اظہار خیال میں، ٹیم کی گذشتہ کئی میچوں میں پیچیدگیوں کے ذریعے چھوٹے چھوٹے ایکڑوں پر لڑائی کے بعد دو گول ہارنے کے بعد کامیابی حاصل کرنا یقینی طور پر ہماری ڈی این ای کی تصدیق ہے۔ ارجنٹائن کے ہر میچ کے دوران، سوئیس کے خلاف ہار کے بعد کی کامیابی نے دکھا دیا کہ تکلیف کا ڈرون ہماری فکر میں چمک دیتا ہے۔
“ہمیں ڈرامائی کامیابی کی ضرورت تھی، اور ہمیں یہ چھوڑ دیا۔”
سکالونی کے بول کے مطابق، ٹیم کے ذمہ واری کا سفر مشکل میچوں میں تکلیف کے ذریعے ہمیشہ آگے بڑھنے کے قابل بن گیا ہے۔
سکالونی کے مطابق، ارجنٹائن کی تاریخی ڈی این ای اس وقت بھی جاری ہے جب وہ دوبارہ ماحول کے ذریعے ہار کے بعد کامیابی حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس میچ میں جولین ا Alvarez اور لاؤٹارو مارٹینز کے دونوں گول کے ذریعے ٹیم کی پوزیشن محفوظ کی گئی۔
کوارٹر فائنل کی مہم میں ہر گزرتا سے بڑھ کر استحکام
سکالونی کے خیال میں، ارجنٹائن کی ڈی این ای کی حمیت کو ہر گزرتا سے بھی سخت تر ہونا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری ٹیم کچھ مشکل حالات میں جیت کے لیے کسی کو گمراہ نہ کرے۔
“ہمیں یہ مہم میں ہر گزرتا سے نجات حاصل کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔”
ٹیم کے ذمہ واری کا احساس اس اضافی وقت کے میچ کے دوران مزید واضح ہوا، جہاں فٹبال کی تاریخ میں ارجنٹائن کی ڈی این ای کی جھلک نظر آئی۔
ایکسیلیس مک ایلیسٹر کی کورنگ میں سوئیس کے میدانی کھلاڑیوں کو گمراہ کرنے کے لیے ہمیشہ ہم تیار ہیں۔ یہ میچ سکالونی کے خیال میں، ہمیں پہلے سے زیادہ تیز ہونے کے لیے ایک سبق بن گیا ہے۔
سکالونی کی ڈی این ای کی اہمیت کا اعتراف
سکالونی کے بول کے مطابق، ہمیشہ چھٹی کے میچ میں کچھ گزرتا سے بھی ہمیں بھاری ہونے کا احساس ہو جاتا ہے۔ لیکن اس ڈرامائی فتح کے ذریعے، ہمیں یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری ڈی این ای کی سرعت اور استحکام ہمارے ذہن میں آرام دہ کر دیتا ہے۔
“ہمیں ڈرامائی کامیابی کی ضرورت تھی، اور ہمیں یہ چھوڑ دیا۔”
ٹیم کے کچھ کامیابی اور ناکامی کے بعد، سکالونی نے ارجنٹائن کی تاریخی ڈی این ای کی اہمیت کا اعتراف کیا۔ یہ احساس ہمیشہ ہماری ٹیم کی لچک کی گواہی دیتا ہے۔
سکالونی کے خیال میں، ہر گزرتا سے ہمیں نجات حاصل کرنے کے لیے، ہماری ڈی این ای کی تاریخ ہمارے ذہن میں سہارا دیتی ہے۔ ارجنٹائن کے میچ میں ہر گزرتا سے بھی ہمیشہ کچھ نئی کوششیں کرتے ہیں۔
یہ چھٹی کے میچ میں ہر گزرتا سے بھی تیز ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ اس کے بعد، سکالونی نے اپنی ڈی این ای کی جھلک کو ارجنٹائن کی کامیابی کا ایک نشانہ بنا دیا۔ ٹیم کے کچھ افراد کے ذریعے ہمیشہ چھٹی کے میچ میں ہار کے بعد فتح حاصل کرنے کا تجربہ کرتے ہیں۔

